پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلے (Earthquake) کے جھٹکوں نے ایک بار پھر عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (Islamabad)، راولپنڈی (Rawalpindi)، آزاد جموں و کشمیر (Azad Jammu and Kashmir)، خیبرپختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) اور شمالی علاقوں (Northern Areas) میں زمین اچانک لرز اٹھی۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے نظر آئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے (Earthquake) کی شدت ریکٹر اسکیل (Richter Scale) پر 5.8 ریکارڈ کی گئی، جبکہ زلزلہ پیما مرکز (Seismological Center) کے مطابق اس کا مرکز افغانستان (Afghanistan) کے سرحدی علاقے کے قریب بتایا جا رہا ہے۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 70 کلومیٹر (Kilometers) زیرِ زمین ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث اس کے اثرات وسیع علاقوں تک محسوس کیے گئے۔
اسلام آباد (Islamabad) اور راولپنڈی (Rawalpindi) میں زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے تاہم شدت اس قدر زیادہ تھی کہ شہری خوفزدہ ہو گئے۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل کر کھلے مقامات پر جمع ہو گئے، جبکہ مساجد (Mosques) میں اذانیں دی گئیں اور خصوصی دعائیں کی گئیں۔
آزاد جموں و کشمیر (Azad Jammu and Kashmir) کے مختلف اضلاع میں بھی زلزلے (Earthquake) کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جہاں ماضی میں آنے والے زلزلوں کی تلخ یادیں آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ مظفرآباد (Muzaffarabad)، باغ (Bagh) اور میرپور (Mirpur) سمیت دیگر علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
خیبرپختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) کے شہروں پشاور (Peshawar)، مردان (Mardan)، سوات (Swat)، ایبٹ آباد (Abbottabad) اور دیر (Dir) میں بھی زمین لرز اٹھی۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد میں خوف زیادہ پایا گیا کیونکہ ان علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (Landsliding) کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
زلزلے (Earthquake) کے فوراً بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (National Disaster Management Authority) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (Provincial Disaster Management Authorities) کو الرٹ کر دیا گیا۔ ریسکیو اداروں (Rescue Services) کو ہدایت دی گئی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم مختلف علاقوں سے معمولی نقصان (Minor Damage) کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ بعض پرانی عمارتوں (Old Buildings) میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین ارضیات (Geologists) کے مطابق پاکستان (Pakistan) ایک زلزلہ خیز خطے (Seismic Zone) میں واقع ہے، جہاں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ پاکستان انڈین پلیٹ (Indian Plate) اور یوریشین پلیٹ (Eurasian Plate) کے درمیان واقع ہے، جس کی وجہ سے زمینی دباؤ (Tectonic Pressure) بڑھتا رہتا ہے اور زلزلے جنم لیتے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں (Rumors) پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع (Authentic Sources) سے معلومات حاصل کریں۔ کسی بھی آفٹر شاکس (Aftershocks) کی صورت میں کھلے مقامات پر جانے اور محفوظ راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زلزلہ (Earthquake) ایک قدرتی آفت (Natural Disaster) ہے جس سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر (Safety Measures) اپنا کر جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کے دوران مضبوط میز (Table) یا بیڈ (Bed) کے نیچے پناہ لینا، شیشے (Glass) اور بھاری اشیاء سے دور رہنا نہایت ضروری ہے۔
حالیہ زلزلے (Earthquake) نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا دی ہے کہ پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management) کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ مضبوط انفراسٹرکچر (Infrastructure)، عوامی آگاہی (Public Awareness) اور بروقت رسپانس (Timely Response) ہی ایسے قدرتی خطرات سے نمٹنے کا واحد حل ہیں۔
زلزلے کے بعد سوشل میڈیا (Social Media) پر بھی مختلف ویڈیوز (Videos) اور پیغامات وائرل (Viral) ہو گئے، جن میں شہریوں نے اپنے تجربات بیان کیے۔ کئی صارفین نے کہا کہ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ ایسا لگا جیسے زمین کئی سیکنڈ تک مسلسل ہلتی رہی۔
ماہرین نے عوام کو تلقین کی ہے کہ وہ گھروں میں ایمرجنسی کِٹ (Emergency Kit) تیار رکھیں، جس میں ابتدائی طبی امداد (First Aid)، پانی (Water)، ٹارچ (Torch) اور ضروری ادویات (Medicines) شامل ہوں۔ زلزلے (Earthquake) جیسے قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

