امریکہ (United States) کے شہر منیاپولس (Minneapolis) میں ICE (Immigration and Customs Enforcement) کے ایک وفاقی ایجنٹ نے 37 سالہ Renee Nicole Good (رینی نکول گڈ) کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج، جامع ویڈیو شواہد، اور وفاقی تحقیق کے طریقہ کار کو لے کر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ اس واقعے نے ملک میں وفاقی پولیس طاقت، شہری آزادیوں، اور عوامی اعتماد کے مسائل کو دوبارہ مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔
یہ واقعہ 7 جنوری 2026 کو ہوا، جب وفاقی ایجنٹس منیاپولس کے ایک رہائشی محلے میں ایک بڑے امیگریشن انفلٹریشن آپریشن (immigration enforcement operation) کے دوران موجود تھے۔ رینی نکول گڈ، جو کہ ایک امریکی شہری (U.S. citizen) اور تین بچوں کی ماں تھیں، اپنے SUV (Honda Pilot) میں موجود تھیں جب انہوں نے فلم بنانے والوں کے قریب کھڑے ایجنٹس کی جانب گاڑی چلانے کی کوشش کی۔ ویڈیو فوٹیج کے مطابق، ایک ICE ایجنٹ نے ان پر تین شاٹس (three shots) فائر کیے جو ان کے سر اور چہرے کو لگے، اور وہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئیں۔
واقعے کے فوری بعد گڈ (Good) کو ہینیپن کاؤنٹی میڈیکل سینٹر (Hennepin County Medical Center) لے جایا گیا، جہاں ان نے دم توڑا۔ کئی مقامی باشندوں نے موقع پر موجود ویڈیو کلپس شیئر کیے، جن میں گواہان نے دکھایا کہ گاڑی غالباً پیچھے ہٹ رہی تھی یا ایجنٹس کے قریب سے گزر رہی تھی، اس کے باوجود ایک ایجنٹ نے فائر کیا۔
وفاقی محکمہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (Department of Homeland Security) کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ رینی نکول گڈ نے ایجنٹس پر گاڑی چڑھا دی، جس کی وجہ سے ایجنٹ نے "خود کو دفاع میں" گولیاں چلائیں۔ تاہم ویڈیو شواہد اور متعدد گواہوں نے اس دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں کہ وہ واقعی خطرے میں تھے یا نہیں۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر (President) ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) انتظامیہ نے منیاپولس میں 2,000 سے زائد ICE ایجنٹس کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا تھا، جس کا مقصد امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو سخت کرنا تھا۔ یہ آپریشن خاص طور پر سومالی امریکی (Somali American) کمیونٹی کی جاری تحقیقات سے بھی منسلک بتایا جاتا ہے، جس نے مقامی سطح پر کشیدگی بڑھا دی تھی۔
گڈ کی موت کے فوراً بعد ہی منیاپولس اور دیگر شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں سیکڑوں لوگوں نے وفاقی ایجنٹس کی موجودگی، طاقت کے استعمال، اور شفاف تحقیقات (transparent investigations) کے مطالبات کیے۔ کچھ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ "ICE باہر نکلو (ICE out)" اور "ہم انصاف چاہتے ہیں (We want justice)"۔
منیاپولس کے میئر (Mayor) جیکب فری (Jacob Frey) اور منیسوٹا (Minnesota) کے گورنر (Governor) Tim Walz نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی، اور وفاقی حکام پر پولیس طاقت کا غیر ضروری استعمال اور مقامی لوگوں پر ظلم کے الزامات لگائے۔ فری نے کہا کہ ویڈیو ثبوت عام تاثر کے برخلاف ہے اور ایجنٹس نے "ناقابلِ معافی طاقت" استعمال کی۔
حکام نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ FBI (Federal Bureau of Investigation) اور منیاپولس کے بیورو آف کرمنل اپریہنشن (BCA) مل کر واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں، لیکن بعد میں FBI نے کلی اختیار حاصل کر لیا اور ریاستی ادارے کو اس سے باہر کر دیا گیا، جس پر ریاستی حکام نے احتجاج کیا کہ مقامی شواہد تک رسائی رک گئی ہے۔
نام نہاد خود دفاع (self-defense) کے بیانیے کے باوجود، شواہد اور ویڈیو فوٹیج نے یہ دکھایا ہے کہ گڈ گاڑی کو پیچھے ہٹا رہی تھیں یا ایجنٹس کے سامنے سے ہل کر گزر رہی تھیں جب ایجنٹ نے فائر کیا۔ متعدد ویڈیو کلپس میں ایجنٹس کو واضح طور پر گاڑی کے خطرناک فاصلے پر نہ ہوتے ہوئے بھی گولیاں چلانے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
یہ واقعہ امریکہ میں پولیس اصلاحات (Police reform)، وفاقی استحکام (Federal power)، اور سماجی انصاف (Social justice) کی بحث کو جلدی سے نئی جان بخشتا ہے۔ کچھ حقوقِ انسانی کے کارکنان نے کہا ہے کہ وفاقی ایجنٹس کو گاوٗں کی سڑکوں میں فوجی طرز پر تعینات نہیں کیا جانا چاہیے، اور رینی نکول گڈ کیس نے واضح کر دیا ہے کہ طاقت کے غلط استعمال کے خلاف سخت قوانین اور عوامی نگرانی کی ضرورت ہے۔
اس واقعے نے امریکہ بھر میں ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے کہ وفاقی حکام اور مقامی معاشرے کے درمیان حدود کیا ہیں، اور ایسے واقعات کو شفاف اور بے طرفانہ تحقیقات کے ذریعے کیسے حل کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں لوگوں کے حقوق کی بہترین حفاظت ہو سکے۔

