Pakistan, Saudi Arabia, and Turkey Forge New Trilateral Strategic Alliance

Pakistan, Saudi Arabia, and Turkey Forge New Trilateral Strategic Alliance

خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک نئی اور طاقتور سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈان نیوز (DAWN)، ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) اور یروشلم پوسٹ (Jerusalem Post) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی (Turkey) کے درمیان ایک اہم سہ فریقی شراکت داری (Trilateral Partnership) مستحکم ہو رہی ہے۔ اس دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔

Explore the emerging trilateral partnership between Pakistan, Saudi Arabia, and Turkey. Learn about their defense cooperation and regional impact based on reports

ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، اس سہ فریقی اتحاد میں ترکی (Turkey) کا کردار کلیدی ہے، کیونکہ وہ جدید دفاعی ساز و سامان اور ڈرون ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا چکا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ترکی ایک ایسے بلاک کی بنیاد رکھ رہا ہے جو نہ صرف فوجی لحاظ سے خود کفیل ہوگا بلکہ اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔

 ڈان نیوز (DAWN) کے مطابق، ان ممالک کے دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔


یروشلم پوسٹ (Jerusalem Post) نے اپنی رپورٹ میں اس ابھرتے ہوئے اتحاد کے مشرقِ وسطیٰ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ترکی (Turkey)، سعودی عرب اور پاکستان کا ایک پلیٹ فارم پر آنا خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شراکت داری خاص طور پر دفاعی صنعت میں خود انحصاری کے حصول کے لیے اہم ہے، جہاں ترکی کی تکنیکی مہارت اور سعودی عرب کے مالی وسائل مل کر بڑے پروجیکٹس کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔

 ڈان نیوز (DAWN) کے مطابق، پاکستان اس تعاون کے ذریعے اپنی دفاعی برآمدات میں اضافے کے لیے پرامید ہے۔


ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس شراکت داری کا ایک بڑا محور اسلامو فوبیا کے خلاف مشترکہ آواز اٹھانا اور امتِ مسلمہ کے مسائل پر یکساں موقف اپنانا بھی ہے۔ ترکی (Turkey) کی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دی ہے، اور اب سعودی عرب کی شمولیت سے یہ تعلقات ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

 یروشلم پوسٹ (Jerusalem Post) کے مطابق، عالمی طاقتیں بھی اس سہ فریقی بلاک کی تشکیل کو گہری دلچسپی اور باریک بینی سے دیکھ رہی ہیں۔


پاکستان، سعودی عرب اور ترکی (Turkey) کے درمیان یہ سہ فریقی اتحاد خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈان نیوز (DAWN) کی رپورٹ کے مطابق، ان کوششوں سے نہ صرف دفاعی تعاون بڑھے گا بلکہ تعلیم، ثقافت اور تجارت کے شعبوں میں بھی عوام کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے۔ ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کے مطابق، آنے والے مہینوں میں اس شراکت داری کے تحت کئی بڑے معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں جو تینوں ممالک کے روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہوں گے۔