پاکستان کی دفاعی صنعت (Defence Industry) اس وقت ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرنے کے قریب ہے، جہاں جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) لڑاکا طیاروں کی عالمی فروخت میں اچانک تیزی نے ملکی معیشت کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ روئٹرز (Reuters)، ڈان نیوز (Dawn News) اور دی ٹیلی گراف (The Telegraph) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان اور انڈونیشیا (Indonesia) کے درمیان جدید لڑاکا طیاروں اور ڈرونز (Drones) کی فراہمی کے لیے ایک بڑے دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں پاکستان کے تزویراتی قد کاٹھ میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی منڈی میں چینی اور پاکستانی اشتراک سے بنے اس طیارے کی مانگ کو بھی مہمیز دی ہے۔
دی ٹیلی گراف (The Telegraph) کی رپورٹ کے مطابق، جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) اب دنیا کی کئی فضائی افواج کی ترجیح بنتا جا رہا ہے کیونکہ یہ مہنگے مغربی طیاروں کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) نے اس حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جے ایف-17 (JF-17) کی فروخت پر بھرپور توجہ دے رہا ہے، اور حکام کو توقع ہے کہ اگر یہ بڑے سودے طے پا گئے تو پاکستان کو اگلے چھ ماہ تک عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) سے مزید قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ معاشی خود انحصاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو دفاعی برآمدات (Defence Exports) کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت میں، دی ڈیلی سی پیک (The Daily CPEC) نے رپورٹ کیا ہے کہ چین (China) اس وقت پاکستان اور سعودی عرب (Saudi Arabia) کے درمیان ہونے والے دفاعی مذاکرات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے جے ایف-17 (JF-17) پروگرام میں دلچسپی اور ممکنہ خریداری نے بھارت سمیت کئی علاقائی حریفوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق، انڈونیشیا (Indonesia) کے ساتھ ہونے والا معاہدہ محض طیاروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی (Drone Technology) کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ کثیر الجہتی دفاعی سفارت کاری (Defence Diplomacy) پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بننے والی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جے ایف-17 بلاک 3 (JF-17 Block III) کی کامیابی کا راز اس کا جدید ریڈار سسٹم (AESA Radar) اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ روئٹرز (Reuters) کے مطابق، انڈونیشیا (Indonesia) اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے ایک ایسی طاقتور اور کم خرچ فورس بنانا چاہتا ہے جو خطے میں توازن برقرار رکھ سکے، اور پاکستان اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین شراکت دار ثابت ہو رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی برآمد (Largest Defence Export) ہوگی، جس کے اثرات ملکی روپے کی قدر اور مجموعی معاشی استحکام پر واضح طور پر نظر آئیں گے۔
مجموعی طور پر، پاکستان کی دفاعی پیداوار (Defence Production) کا شعبہ اب ایک عالمی برانڈ بن کر ابھر رہا ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اور چین (China) کا اشتراک عالمی ہوابازی کی منڈی میں بڑے کھلاڑیوں کو ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کے مطابق، پاکستان کی یہ "دفاعی فروخت سے معاشی بچاؤ" (Defence Sales to Economic Salvation) کی حکمتِ عملی اگر کامیاب رہی، تو یہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن جائے گی۔ اب عالمی برادری کی نظریں انڈونیشیا (Indonesia) اور سعودی عرب (Saudi Arabia) کے ساتھ ہونے والے حتمی دستخطوں پر لگی ہیں، جو پاکستان کے معاشی اور دفاعی مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔

