NASA’s Golden Era: Moon & Mars Wins in Trump’s 2nd Term

NASA’s Golden Era: Moon & Mars Wins in Trump’s 2nd Term

چاند اور مریخ (Mars) کی تسخیر میں ٹرمپ انتظامیہ کا ایک سال جنوری 2026 تک، ناسا نے صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے پہلے سال کو "خلائی اختراع کا سنہری دور" قرار دے دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے خلائی دوڑ میں اپنی برتری کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ چاند سے مریخ تک کے سفر (Moon-to-Mars) میں ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو دہائیوں پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھیں۔ آرٹیمس پروگرام اور چاند پر مستقل قیام گزشتہ ایک سال کے دوران ناسا کی سب سے بڑی کامیابی آرٹیمس (Artemis) مشنز میں تیزی ہے۔ 

NASA marks a year of historic progress in Trump’s second term, advancing Artemis Moon missions and Mars exploration. Explore the new golden age of space

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت، ناسا نے نجی شعبے (جیسے SpaceX اور Blue Origin) کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دی ہے۔ 

 لونا گیٹ وے (Lunar Gateway): چاند کے گرد چکر لگانے والے اس اسٹیشن کے کلیدی حصوں کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔


 چاند کی سطح پر لینڈنگ: 2025 کے اواخر میں کامیاب انسانی لینڈنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ اب چاند پر صرف دورہ کرنے نہیں، بلکہ وہاں مستقل قیام کے لیے تیار ہے۔

مریخ (Mars)  مشن: خواب سے حقیقت تک کا سفر ناسا کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان کے مطابق، مریخ (Mars) کے لیے انسانی مشن کی تیاریاں اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے خلائی بجٹ میں تحقیق اور ترقی (R&D) کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے ہیں، جس کے نتیجے میں: 

 نیوکلیئر تھرمل پروپلشن: انجن کی نئی ٹیکنالوجی پر کام تیز کر دیا گیا ہے تاکہ مریخ (Mars)   تک کا سفر مہینوں کے بجائے ہفتوں میں ممکن ہو سکے۔

 آکسیجن کی تیاری: مریخ (Mars)  کی فضا سے آکسیجن بنانے کے کامیاب تجربات (MOXIE) کو بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ معیشت اور خلائی ٹیکنالوجی کا ملاپ ناسا کے پہلے سال کی کارکردگی صرف ستاروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے زمینی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ آرٹیکل کے مطابق، خلائی پروگراموں نے امریکہ میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ 


 کمرشل اسپیس اکانومی:نجی کمپنیوں کو خلا میں کارگو اور انسان لے جانے کے مزید ٹھیکے دیے گئے ہیں، جس سے مقابلے کی فضا پیدا ہوئی اور اخراجات میں کمی آئی۔ 

 ٹیکنالوجی کی منتقلی: خلا کے لیے بنائی گئی واٹر پیوریفیکیشن اور سولر انرجی ٹیکنالوجی اب عام شہریوں کے استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ "ہم خلا میں صرف جھنڈا لگانے نہیں جا رہے، بلکہ ہم وہاں ایک مستقل معیشت اور انسانی بستی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔" 

 ناسا ایڈمنسٹریٹر کا بیان مستقبل کی حکمت عملی: 2026 اور اس سے آگے ناسا کا ہدف واضح ہے: 

2026 کے آخر تک چاند کے جنوبی قطب (South Pole) پر ایک مکمل فعال ریسرچ بیس قائم کرنا۔ یہ بیس مریخ (Mars)  پر جانے والے پہلے انسانی مشن کے لیے "لانچنگ پیڈ" کے طور پر کام کرے گا۔

ناسا کی حالیہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب سیاسی عزم اور سائنسی مہارت ایک جگہ جمع ہوں تو کائنات کی وسعتیں مسخر کرنا مشکل نہیں رہتا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا پہلا سال خلائی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں امریکہ نے ایک بار پھر خود کو خلا کا بے تاج بادشاہ ثابت کیا ہے۔