Minnesota National Guard Deployment: Trump Weighs Active Duty Troops Amid Protests

Minnesota National Guard Deployment: Trump Weighs Active Duty Troops Amid Protests

امریکہ کی ریاست منیسوٹا اس وقت ایک شدید سیاسی اور آئینی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ سی این این (CNN)، پولیٹیکو (Politico) اور واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، تارکینِ وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور احتجاجی لہر کو روکنے کے لیے منیسوٹا نیشنل گارڈ کی تعیناتی (Minnesota National Guard deployment) کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ کے لیے نہ صرف نیشنل گارڈ بلکہ باقاعدہ فوج (Active Duty Troops) کو بھی متحرک کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

President Trump considers deploying active-duty troops and National Guard in Minnesota to handle immigration protests. Read the latest on the Insurrec

پولیٹیکو (Politico) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے منیسوٹا میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے بہانے ایکٹیو ڈیوٹی فوجیوں کی تعیناتی پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم ان کی اس مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد "غیر قانونی تارکینِ وطن" کو ملک بدر کرنا ہے۔

 سی این این (CNN) کے مطابق، منیسوٹا کے مختلف شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے، جہاں وہ حکومت کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ منیسوٹا نیشنل گارڈ کی تعیناتی (Minnesota National Guard deployment) کا مقصد ان مظاہروں کو دبانا اور حکومتی کارروائیوں کے لیے راستہ صاف کرنا بتایا جا رہا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ "انسٹرکشن ایکٹ" (Insurrection Act) کا سہارا لینے پر غور کر رہے ہیں، جو انہیں امریکی سرزمین پر فوج استعمال کرنے کا غیر معمولی اختیار دیتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو منیسوٹا نیشنل گارڈ کی تعیناتی (Minnesota National Guard deployment) ایک بڑے فوجی آپریشن میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین نے اس اقدام کو وفاقی طاقت کا بے جا استعمال قرار دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ملک کی سرحدوں اور داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔


سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، منیسوٹا کے گورنر اور وفاقی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی ایجنٹوں کو مقامی کمیونٹیز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر مقامی مخالفت کو نظر انداز کر کے فوج بھیجیں گے۔


 پولیٹیکو (Politico) کے مطابق، منیسوٹا نیشنل گارڈ کی تعیناتی (Minnesota National Guard deployment) سے شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور تارکینِ وطن کے خاندانوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔


منیسوٹا اس وقت امریکی سیاسی تاریخ کے ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔

 واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کی رپورٹ کے مطابق، فوج کے استعمال کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کا سب سے متنازعہ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

 سی این این (CNN) کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ منیسوٹا نیشنل گارڈ کی تعیناتی (Minnesota National Guard deployment) اور فوجی طاقت کے استعمال کو روکا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی کم ہوتی ہے یا یہ ایک بڑے قومی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔