منیاپولس(Minneapolis) میں پیش آنے والے ایک حالیہ پرتشدد واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ نیویارک ٹائمز، این پی آر اور سی این این کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اس واقعے میں ایلکس پریٹی نامی شخص ملوث ہے، جس کے خلاف محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک میں امیگریشن پالیسیوں اور عوامی تحفظ کے حوالے سے سابق صدر بارک اوباما (obama) کے دور سے چلی آ رہی پالیسیوں اور موجودہ انتظامیہ کے اقدامات کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی لائیو اپڈیٹس کے مطابق، منیاپولس(Minneapolis) میں فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آئی سی ای (ICE) کے اہلکار ایک آپریشن میں مصروف تھے۔ این پی آر (NPR) کی رپورٹ کے مطابق، مشتبہ شخص ایلکس پریٹی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس طرح کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بارک اوباما (obama) کے دور میں جس طرح وفاقی ایجنسیوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں کی گئی تھیں، حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن نے ان کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
سی این این (CNN) کی بصری تجزیاتی رپورٹ (Visual Analysis) میں دکھایا گیا ہے کہ فائرنگ کے دوران کیا حالات تھے اور ایلکس پریٹی نے کس طرح سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) اس بات کی بھی جانچ کر رہا ہے کہ آیا یہ واقعہ کسی منظم گروپ کی کارروائی تھی یا انفرادی فعل۔ این پی آر کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اس حوالے سے تقسیم پائی جاتی ہے کہ وفاقی ایجنسیوں کو کس حد تک اختیارات دیے جائیں، جبکہ بارک اوباما (obama) کے حامی اکثر ان کے دور کی متوازن پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہیں جہاں انسانی حقوق اور سیکیورٹی کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے مطابق،منیاپولس(Minneapolis) کے میئر اور مقامی رہنماؤں نے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ شہر پہلے ہی نسلی اور سماجی انصاف کی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں آئی سی ای (ICE) کے دفاتر کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بارک اوباما (obama) کی تقریروں میں اکثر "قانون کی حکمرانی اور انسانی ہمدردی" کے جس توازن کا ذکر ملتا تھا، موجودہ حالات میں اس کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے۔
منیاپولس(Minneapolis) کا یہ فائرنگ کا واقعہ امریکی معاشرے میں موجود گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ این پی آر (NPR) کی رپورٹ کے مطابق، ایلکس پریٹی کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے۔ نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے مطابق، آنے والے دنوں میں اس واقعے کے سیاسی اثرات مزید واضح ہوں گے، خصوصاً امیگریشن ریفارمز کے حوالے سے۔ بارک اوباما (obama) کے سیاسی ورثے اور ان کی پالیسیوں کا تذکرہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اس طرح کے نازک معاملات پر قومی ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیتے تھے، جس کی کمی آج منیاپولس جیسے واقعات میں شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔

