Mark Carney at Davos: Warning of Global Order Collapse Amid Trump Return

Mark Carney at Davos: Warning of Global Order Collapse Amid Trump Return

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران کینیڈا کے سابق مرکزی بینکر اور عالمی مالیاتی ماہر مارک کارنی (Mark Carney) کے خطاب نے بین الاقوامی سفارتی اور معاشی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نیویارک ٹائمز (NYT)، دی گارڈین اور الجزیرہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، مارک کارنی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی اور ان کی "امریکہ فرسٹ" پالیسیوں کے عالمی اثرات پر سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانا عالمی نظام دم توڑ رہا ہے۔

Mark Carney delivers a stark warning at Davos about the end of the rules-based international order and Trump's impact on Canada. Read the full analysi

نیویارک ٹائمز (NYT) کی رپورٹ کے مطابق، مارک کارنی (Mark Carney) نے ڈیووس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں اور ٹیرف کے خطرات کینیڈا سمیت پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق، کارنی نے ٹرمپ کے رویے کو عالمی تجارت کے لیے "تخریب کارانہ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کو اب اپنی معاشی بقا کے لیے امریکہ پر انحصار کم کر کے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے، کیونکہ واشنگٹن اب عالمی قوانین کی پاسداری سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔


الجزیرہ (Al Jazeera) کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس صورتحال کو "دنیا کا خاتمہ جیسا کہ ہم جانتے تھے" قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مارک کارنی (Mark Carney) کے اس خدشے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ کیا قوانین پر مبنی عالمی نظام (Rules-based order) اب ختم ہو چکا ہے؟ کارنی کا ماننا ہے کہ کثیر الجہتی تعاون کی جگہ اب طاقت کی سیاست اور تحفظ پسندی لے رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، کارنی کے اس خطاب کو کینیڈا کی سیاست میں ان کے بڑھتے ہوئے قد اور مستقبل کے سیاسی عزائم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔


دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق، مارک کارنی (Mark Carney) نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ معاشی قوم پرستی کے اس نئے سیلاب کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر ٹیرف اور دیگر تجارتی پابندیاں صرف شروعات ہیں، جو عالمی سپلائی چین کو تباہ کر سکتی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، کارنی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر کے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور عالمی ادارے اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔


مارک کارنی (Mark Carney) نے ڈیووس کو ایک عالمی بیداری کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز (NYT) کی رپورٹ کے مطابق، ان کا یہ خطاب عالمی نظام کی تبدیلی کا ایک واضح اعتراف ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، اب سوال یہ نہیں کہ نظام بدلے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نئے بے لگام دور میں کون سے ممالک بچ پائیں گے۔ دی گارڈین کے مطابق، کارنی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ماہرِ معاشیات ہیں بلکہ عالمی بحرانوں پر گہری نظر رکھنے والے ایک دور اندیش رہنما بھی ہیں۔