امریکہ کے قانونی اور سیاسی حلقوں میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہے جس کا مرکز ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ وکیل لنڈسے ہالی گن (Lindsey Halligan) کی بطور وفاقی پراسیکیوٹر تعیناتی ہے۔ سی این این (CNN)، نیویارک ٹائمز (NYT) اور این بی سی نیوز (NBC News) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ورجینیا کے ایک جج نے وزارتِ انصاف (DOJ) کے دعووں کے باوجود اس اہم عہدے کے لیے ملازمت کا اشتہار دے دیا ہے، جس نے وائٹ ہاؤس اور عدلیہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، لنڈسے ہالی گن (Lindsey Halligan) کی نامزدگی کو ناقدین نے ایک "سیاسی تماشا" (Charade) قرار دیا ہے، جبکہ متعلقہ جج نے وزارتِ انصاف کی جانب سے ان کی اہلیت کے دفاع کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیویارک ٹائمز (NYT) کے مطابق، ورجینیا میں امریکی اٹارنی کے عہدے کے لیے ہالی گن کا انتخاب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وزارتِ انصاف کو اپنے وفاداروں سے بھرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس پر قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، صورتحال اس وقت مزید ڈرامائی ہو گئی جب ایک وفاقی جج نے حکومتی دعووں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی عہدے کے لیے نئی درخواستیں طلب کر لیں۔ جج کا موقف ہے کہ لنڈسے ہالی گن (Lindsey Halligan) اس عہدے کے لیے ضروری تجربہ نہیں رکھتیں اور ان کی تعیناتی میرٹ کے خلاف ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، وزارتِ انصاف (DOJ) نے جج کے اس اقدام کو اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے، جس سے انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تناؤ کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔
سی این این (CNN) کے مطابق، جج کے سخت الفاظ اور "تلخی" (Vitriol) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عدلیہ کے کچھ حصے حکومتی تقرریوں کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لنڈسے ہالی گن (Lindsey Halligan) جو پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے مار-اے-لاگو کیس میں دفاعی ٹیم کا حصہ تھیں، اب واشنگٹن کی سیاست کے اس بڑے معرکے کا مرکزی کردار بن چکی ہیں۔
این بی سی (NBC) کی رپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹس نے بھی اس تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انصاف کے نظام پر حملہ قرار دیا ہے۔
لنڈسے ہالی گن (Lindsey Halligan) کی تعیناتی کا معاملہ اب ایک آئینی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز (NYT) کے مطابق، وائٹ ہاؤس اپنے فیصلے پر قائم ہے جبکہ جج کی جانب سے نئی بھرتیاں کھولنے کا اعلان ایک غیر معمولی مزاحمت ہے۔ سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، انے والے دنوں میں یہ قانونی جنگ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتی ہے، جہاں امریکی وزارتِ انصاف کے اختیارات اور ججوں کے صوابدیدی اختیارات کا حتمی فیصلہ ہو گا۔

