دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھنے والا دبئی کا برج خلیفہ (Burj Khalifa) جلد ہی اپنا تخت کھو سکتا ہے۔ نیوز ویک (Newsweek)، سوئک بلاگ (Swikblog) اور کلک پیٹرولیم (Click Petroleo e Gas) کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، سعودی عرب نے جدہ میں دنیا کی پہلی ایک کلومیٹر بلند عمارت، جدہ ٹاور (Jeddah Tower) کی تعمیر کا کام دوبارہ مکمل تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ یہ فلک بوس عمارت نہ صرف انجینئرنگ کی حدود کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تعمیراتی ریکارڈز کو پاش پاش کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
نیوز ویک (Newsweek) کی رپورٹ کے مطابق، جدہ ٹاور، جسے پہلے "کنگڈم ٹاور" کے نام سے جانا جاتا تھا، کی تعمیر کئی سالوں تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد اب دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ اس عمارت کی مجوزہ بلندی 1,000 میٹر (ایک کلومیٹر) سے زیادہ ہے، جو اسے برج خلیفہ (828 میٹر) سے کم از کم 172 میٹر بلند بنا دے گی۔ اس منصوبے کا دوبارہ آغاز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے "وژن 2030" کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو عالمی سیاحت اور تجارت کا مرکز بنانا ہے۔
کلک پیٹرولیم (Click Petroleo e Gas) نے اپنی رپورٹ میں اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک کلومیٹر بلند عمارت بنانا انجینئرنگ کا ایک غیر معمولی امتحان ہے۔ اتنی بلندی پر ہوا کے شدید دباؤ (Wind Load) کو برداشت کرنا، وزن کو سنبھالنے کے لیے جدید ترین کنکریٹ کا استعمال، اور لفٹ کے ایسے نظام کی تنصیب جو چند سیکنڈز میں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکے، جدید سائنس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جدہ ٹاور کی بنیادیں 60 میٹر گہری ہیں تاکہ یہ سمندری ہواؤں اور ممکنہ زلزلوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑا رہ سکے۔
سوئک بلاگ (Swikblog) کے مطابق، برج خلیفہ گزشتہ 16 سالوں سے دنیا کی بلند ترین عمارت کا تاج پہنے ہوئے ہے، لیکن جدہ ٹاور کی تکمیل اس بالادستی کو ختم کر دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ سعودی عرب کی معاشی طاقت کا اظہار ہے۔ جدہ ٹاور ایک بڑے "جدہ اکنامک سٹی" (Jeddah Economic City) کا مرکزی حصہ ہوگا، جس میں رہائشی اپارٹمنٹس، ہوٹلز، دفاتر اور دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک (Observation Deck) شامل ہوگا۔ تعمیراتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جدہ ٹاور کی تکمیل کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں "فلک بوس عمارتوں کی جنگ" (Battle of Skyscrapers) ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ دبئی پہلے ہی برج خلیفہ سے بھی بلند "کریک ٹاور" (Creek Tower) بنانے پر غور کر رہا ہے تاکہ اپنا اعزاز واپس لے سکے۔ تاہم، فی الحال تمام نظریں جدہ پر جمی ہوئی ہیں، جہاں کرینیں ایک بار پھر آسمان کی طرف بلند ہو رہی ہیں۔
جدہ ٹاور کی تعمیر کا دوبارہ آغاز عالمی تعمیراتی دنیا کے لیے ایک بہت بڑی خبر ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنی مجوزہ بلندی کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے، تو یہ انسانی تاریخ کا پہلا ایسا ڈھانچہ ہوگا جو بادلوں کو چیرتے ہوئے ایک کلومیٹر کی حد عبور کرے گا۔ برج خلیفہ کے مداحوں کے لیے یہ شاید ایک افسوسناک خبر ہو، لیکن دنیا کے لیے یہ انجینئرنگ کے ایک نئے معجزے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ہوگا۔

