واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، ایران اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے: ایک طرف حکومتی کرپٹو کرنسی اسکینڈل نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، تو دوسری طرف ملک کے بڑے شہروں میں سپریم لیڈر کے خلاف شدید مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ جنوری 2026 کے ان واقعات نے ایرانی حکومت کے استحکام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
The Prince Organization کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اور کرپٹو کرنسی نیٹ ورک واشنگٹن پوسٹ کی 9 جنوری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک وسیع اور پیچیدہ کرپٹو کرنسی نیٹ ورک تیار کر رکھا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، یہ نیٹ ورک نہ صرف اسلحے کی خریداری اور بیرونِ ملک آپریشنز کے لیے استعمال ہو رہا ہے بلکہ اس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران ڈیجیٹل کرنسی کو ایک "مالیاتی ڈھال" کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اس کی معیشت پر لگی بین الاقوامی پابندیوں کا اثر کم کیا جا سکے۔
تہران اور مشہد میں حکومت مخالف مظاہرے 10 جنوری کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران اور مذہبی مرکز مشہد سمیت کئی بڑے شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ مظاہرے بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف شروع ہوئے ہیں، لیکن اب مظاہرین براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، مشہد جیسے قدامت پسند شہر میں اس نوعیت کے نعرے لگنا حکومت کے لیے ایک غیر متوقع اور پریشان کن صورتحال ہے۔
مظاہروں کی وجوہات اور حکومتی ردِعمل:
معاشی تباہی: ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عوام کا صبر لبریز کر دیا ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش: مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومت نے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں تاکہ لوگ منظم نہ ہو سکیں۔
کریک ڈاؤن: سیکیورٹی فورسز اور سادہ لباس اہلکاروں کی بڑی تعداد سڑکوں پر تعینات ہے، اور اب تک سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے کرپٹو آپریشنز کے بے نقاب ہونے اور داخلی سطح پر عوامی غیظ و غضب نے ایرانی قیادت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال 2022 کے احتجاجی سلسلے کی یاد تازہ کر رہی ہے، لیکن اس بار معاشی بوجھ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف ریاست ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، وہیں سڑکوں پر موجود عوام تبدیلی کے لیے جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ آنے والے چند روز ایران کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

