ایران کی معیشت اس وقت ایک سنگین بحران کی زد میں ہے، جہاں ملکی کرنسی "تومان" کی قدر میں ریکارڈ کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ڈان نیوز، یورو نیوز اور ٹریڈرز یونین کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، اس معاشی تباہی کے پیچھے جہاں بین الاقوامی پابندیاں ہیں، وہی اندرونی ڈھانچہ جاتی مسائل بھی نمایاں ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور معیشت پر کنٹرول: Euro News کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ایران کی معیشت کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (Revolutionary Guard) کے زیرِ اثر ہے۔ تعمیرات، توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے اہم شعبوں پر ان کے غلبے نے آزاد مارکیٹ کے مقابلے کو ختم کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت پر اس طرح کے فوجی اور سیاسی کنٹرول کی وجہ سے شفافیت مفقود ہے، جس کا براہِ راست اثر ملکی کرنسی پر پڑ رہا ہے۔
کرنسی کا بحران اور مارکیٹ کی صورتحال: Traders Union کی رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 میں ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید اتار چڑھاؤ (Turmoil) دیکھا گیا ہے۔ غیر یقینی سیاسی حالات اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال رہے ہیں، جس سے ڈالر کے مقابلے میں تومان کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس سے عام شہری کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔
[Image illustrating the Iranian Rial's exchange rate volatility chart against the US Dollar in early 2026]
سدرہ روگھے (Sidrah Roghay) کا تجزیہ: مشہور صحافی اور تجزیہ نگار سدرہ روگھے، جو خطے کے سماجی و معاشی مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں، اپنے مقالوں میں اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ ایران میں معاشی پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور عوامی احتجاج کو دبانے کی کوششیں معیشت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، جب تک معاشی اصلاحات کو سیاسی مفادات پر ترجیح نہیں دی جائے گی، ایران کا کرنسی بحران حل ہونا مشکل ہے۔
ایران کی معاشی صورتحال: اہم چیلنجز
| مسئلہ (Issue) | اثر (Impact) | بنیادی وجہ (Primary Cause) |
|---|---|---|
| کرنسی کی گراوٹ | ریکارڈ مہنگائی | سرمایہ کاری کا فقدان اور پابندیاں |
| IRGC کا غلبہ | شفافیت کی کمی | معیشت پر فوجی کنٹرول |
| عوامی بے چینی | سماجی عدم استحکام | قوتِ خرید میں کمی |

