Iran Airspace Closure 2026: Impact on Indian Flights & IndiGo’s Narrow Escape

Iran Airspace Closure 2026: Impact on Indian Flights & IndiGo’s Narrow Escape

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی فضائی سفر شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی (NDTV)، دی ہندو (The Hindu) اور ٹیلی گراف انڈیا (Telegraph India) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران کی فضائی حدود (Iran Airspace) کی اچانک بندش نے عالمی ایوی ایشن بالخصوص بھارتی پروازوں کے لیے ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تہران کی جانب سے تجارتی طیاروں کے لیے اپنی حدود بند کرنے کے فیصلے نے درجنوں بین الاقوامی روٹس کو متاثر کیا ہے، جس سے نہ صرف پروازوں کے اوقات میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

Iran extends airspace closure for commercial aircraft amid high tensions. Read about IndiGo's narrow escape before closure and the flight advisories issued by Air India reported by NDTV and The Hindu.

این ڈی ٹی وی (NDTV) کی رپورٹ کے مطابق، دہلی آنے والی انڈیگو (IndiGo) کی ایک پرواز اس وقت بال بال بچی جب وہ ایران کی فضائی حدود (Iran Airspace) کی باقاعدہ بندش سے محض چند منٹ پہلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ اگر یہ طیارہ چند منٹ بھی لیٹ ہو جاتا تو اسے طویل متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا یا قریبی کسی دوسرے ملک میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑتی۔

 دی ہندو (The Hindu) کے مطابق، ایران نے کشیدہ حالات کے پیشِ نظر تجارتی طیاروں کے لیے اپنی حدود کی بندش کے احکامات میں مزید توسیع کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال تاحال غیر مستحکم ہے۔


ٹیلی گراف انڈیا (Telegraph India) کی رپورٹ کے مطابق، فضائی حدود کی اس بندش نے ایئر انڈیا (Air India) اور انڈیگو (IndiGo) سمیت تمام بڑی بھارتی ایئر لائنز کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ایئر لائنز نے مسافروں کے لیے خصوصی ایڈوائزری (Advisory) جاری کر دی ہے جس میں پروازوں کی منسوخی اور روٹس کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ اب یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کو وسطی ایشیا یا ترکی کے طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سفر کے دورانیے میں 2 سے 3 گھنٹے کا اضافہ ہو گیا ہے۔


ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی فضائی حدود (Iran Airspace) کی بندش سے عالمی سپلائی چین اور مسافروں کی آمد و رفت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

 دی ہندو (The Hindu) کے مطابق، تہران نے یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے پیشِ نظر کیا ہے۔

 این ڈی ٹی وی (NDTV) کی رپورٹ کے مطابق، مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کا اسٹیٹس (Flight Status) لازمی چیک کریں تاکہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچا جا سکے۔


مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے عالمی ہوا بازی کے نظام کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ٹیلی گراف انڈیا (Telegraph India) کے مطابق، ایئر لائنز اس وقت متبادل راہداریوں (Corridors) کے استعمال کے لیے دیگر ممالک کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں۔ 

جب تک ایران کی فضائی حدود (Iran Airspace) دوبارہ تجارتی پروازوں کے لیے نہیں کھل جاتی، تب تک مسافروں کو طویل سفر اور ممکنہ طور پر ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایوی ایشن حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔