امریکی چپ ساز کمپنی انٹیل (Intel) کے شیئرز میں جمعہ کے روز اچانک تیزی دیکھی گئی، جس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کمپنی کی قیادت اور اسٹریٹجک سمت کی بھرپور حمایت ہے۔ انویسٹو پیڈیا (Investopedia)، یاہو فنانس اور CNBC کی رپورٹوں کے مطابق، صدر ٹرمپ نے انٹیل کے نئے ممکنہ سی ای او اور بورڈ ممبر لپ بو ٹین (Lip-Bu Tan) کی تعریف کی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں اعتماد کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرمپ کے ان کلمات کے بعد مارکیٹ کے کھلتے ہی انٹیل کے اسٹاک میں نمایاں اضافہ (Pop) دیکھا گیا۔ یاہو فنانس (Yahoo Finance) کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں لپ بو ٹین کو "ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک جینیس" قرار دیا اور انٹیل کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انٹیل گزشتہ کچھ عرصے سے مینوفیکچرنگ کے مسائل اور مارکیٹ شیئر میں کمی کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھی، لیکن صدر کی جانب سے کمپنی کو "امریکی سیمی کنڈکٹر کی بحالی کا مرکز" قرار دیے جانے سے سرمایہ کاروں کو لگا ہے کہ مستقبل میں کمپنی کو حکومتی سطح پر بڑی مراعات اور تحفظ مل سکتا ہے۔
CNBC کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لپ بو ٹین، جو کہ چپ ڈیزائن انڈسٹری کے ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، انٹیل کے بورڈ میں دوبارہ شامل ہوئے ہیں اور انہیں سی ای او کے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ انٹیل کو ایشیائی چپ ساز کمپنیوں (جیسے TSMC) پر برتری دلانے کے لیے لپ بو ٹین جیسے تجربہ کار شخص کی ضرورت ہے۔ اس سیاسی حمایت نے انٹیل کے اسٹاک کو انڈیکس میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں شامل کر دیا ہے۔
انویسٹو پیڈیا (Investopedia) کے مطابق، انٹیل کے لیے صدر ٹرمپ کا یہ "گرین سگنل" اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ انتظامیہ "چپس ایکٹ" (CHIPS Act) کے تحت ملنے والی فنڈنگ اور مقامی مینوفیکچرنگ پر سخت توجہ دے رہی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ کو سیمی کنڈکٹرز کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار ختم کرنا چاہیے، اور انٹیل واحد امریکی کمپنی ہے جو اس پیمانے پر چپس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بیان سے انٹیل کی طویل مدتی ساکھ کو فائدہ پہنچے گا۔ انٹیل (Intel) کے شیئرز میں اس اضافے نے ٹیکنالوجی سیکٹر کے دیگر اسٹاکس کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے تحت انٹیل کو ٹیکسوں میں چھوٹ اور تحقیق کے لیے اضافی گرانٹس مل سکتی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف سیاسی حمایت کافی نہیں ہوگی، انٹیل کو اپنی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی میں موجود خامیوں کو بھی دور کرنا ہوگا تاکہ وہ این ویڈیا (Nvidia) اور اے ایم ڈی (AMD) جیسے حریفوں کا مقابلہ کر سکے۔ لپ بو ٹین کے حوالے سے ٹرمپ کے مثبت تبصروں نے وال اسٹریٹ کے ان تجزیہ کاروں کو بھی خاموش کر دیا ہے جو انٹیل کے مستقبل پر سوال اٹھا رہے تھے۔
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق، بہت سے بروکریج ہاؤسز نے انٹیل کے لیے اپنے "آؤٹ لک" کو بہتر بنانا شروع کر دیا ہے۔ صدر کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ "انٹیل کو دوبارہ عظیم بنایا جائے گا" (Make Intel Great Again) کمپنی کے ملازمین اور شیئر ہولڈرز کے لیے ایک بڑا حوصلہ ثابت ہوئی ہے۔
مختصر یہ کہ صدر ٹرمپ کی مداخلت نے انٹیل (Intel) کو ایک نئی زندگی فراہم کر دی ہے۔ لپ بو ٹین کی قیادت اور وائٹ ہاؤس کی حمایت کے سنگم نے کمپنی کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اگر انٹیل اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف کمپنی بلکہ امریکی معیشت کے لیے بھی ایک تاریخی سنگِ میل ہوگا۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کمپنی اپنی اس نئی ملنے والی برتری کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔

