Iman Mazari and Husband Sentenced Over Social Media Posts: Detailed Report

Iman Mazari and Husband Sentenced Over Social Media Posts: Detailed Report

پاکستان میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری (iman mazari)  اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ریاست مخالف پروپیگنڈے اور نفرت پھیلانے کے الزامات میں قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ڈان نیوز، واشنگٹن پوسٹ اور ایکسپریس ٹریبیون کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس جوڑے کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے، جس نے ملک کے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے کو جہاں قانون کی حکمرانی قرار دیا جا رہا ہے، وہی پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر سمیت کئی سیاسی شخصیات نے اسے سیاسی انتقام اور آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

Human rights lawyer Iman Mazari and husband Hadi Chattha receive prison sentences for state-critical social media posts. Read reactions Asad Qaiser

ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق،ایمان مزاری (iman mazari)  اور ان کے شوہر پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس شیئر کیں جن کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور عوام میں اشتعال پیدا کرنا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق اور آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا صارفین اور سماجی کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، اس مقدمے کے نتائج پاکستان کے عدالتی نظام میں سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم مثال قائم کریں گے۔


ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایمان مزاری (iman mazari)  اور ان کے شوہر کی سزا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "جمہوریت کے ماتھے پر بدنما داغ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کو مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے عدالتی نظام کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اس سزا پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ڈان نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ دفاعی وکلاء اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ سزا معطل کرائی جا سکے۔


واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایمان مزاری (iman mazari) طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اکثر مقتدر حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، اسد قیصر نے اسے "مزاری خاندان کے خلاف سیاسی انتقام" قرار دیا ہے، کیونکہ ان کی والدہ شیریں مزاری کو بھی ماضی میں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق، عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شہری چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں رکھتا۔


ایمان مزاری (iman mazari) اور ان کے شوہر کی سزا نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے حق اور مخالفت میں شدید ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ (Washington Post) کا خلاصہ ہے کہ یہ کیس بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی قانونی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایمان مزاری (iman mazari)  کی قانونی جدوجہد اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کے مطابق، اسد قیصر جیسے سیاسی رہنماؤں کے بیانات نے اس معاملے کو خالصتاً سیاسی رنگ دے دیا ہے۔