Haq (حق): شازیہ بانو کیس یا shah bano story and husband ایک ایسا عدالتانہ ڈرامہ فلم جس نے ریلیز ہونے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا اور فلمی دنیا میں گہری بحثیں اور ردعمل پیدا کر دیے ہیں۔ یہ فلم نہ صرف مشہور اداکاروں کے بہترین اداکاری مظاہرے کی وجہ سے مقبول ہوئی ہے بلکہ اس کے پیچھے چھپی حقیقی زندگی کی کہانی نے بھی لوگوں کے ذہنوں میں بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Haq (حق) کا تعلق ایک تاریخی اور حساس معاملے سے ہے جو نہ صرف عدالتوں میں جنگ لڑنے والی خواتین کی کہانی بیان کرتا ہے بلکہ معاشرتی اور قانونی سوچ میں تبدیلی لانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔
فلم کا خلاصہ
Haq (حق) ایک عدالت-پر مبنی سوشل ڈرامہ فلم ہے جس میں یامی گوتام ڈہار (Yami Gautam Dhar) نے مرکزی کردار شازیہ بانو (Shazia Bano) کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کردار کی کہانی پاکستان یا بھارت کے روایتی بچوں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔
یامی گوتام ڈہار (Yami Gautam Dhar) کے مقابل اباس خان (Abbas Khan) کا کردار امریں ہاشمی (Emraan Hashmi) نے ادا کیا ہے، جو ایک اعلیٰ وکیل ہے اور ایک طاقتور ذاتی حیثیت رکھتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح شازیہ بانو (Shazia Bano) کو اپنے شوہر کی جانب سے تلک (triple talaq) دیا جاتا ہے اور اسے اپنے حقوق کے لیے عدالت میں لڑنا پڑتا ہے۔
فلم کی مرکزی تھیم
یہ فلم ایک ایسے سماجی مسئلے کو سامنے لاتی ہے جس نے معاشرتی اور قانونی بحثوں میں طویل عرصے تک عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔ فلم نے عدالت، انصاف، عورتوں کے حقوق، اور ذاتی قانونی نظام جیسے موضوعات کو بخوبی اپنے بیانیے میں شامل کیا ہے۔
اصل کہانی اور شاہ بانو کیس (Shah Bano Case)
فلم کی کہانی ایک حقیقی واقعہ شاہ بانو بیگم (Shah Bano Begum) کے مقدمے سے متاثر ہے جس نے 1985 میں محمد احمد خان (Mohd. Ahmed Khan) کے خلاف عدالت میں لڑائی کی تھی۔ شاہ بانو (Shah Bano) نے اپنے شوہر کے ذریعہ چھوڑ دیے جانے اور اپنے بچوں کے ساتھ مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حقیقی زندگی میں شاہ بانو (Shah Bano) اور محمد احمد خان (Mohd. Ahmed Khan) کے درمیان 7 سال کا عمرانی فرق تھا، جو اس تاریخی معاملے کو مزید پیچیدہ اور جذباتی بنا دیتا ہے۔
فلم کی ریلیز اور نیٹ فلکس (Netflix) پر ریلیز
فلم Haq (حق) 7 نومبر 2025 کو تھیٹرز میں ریلیز ہوئی۔ آغاز میں یہ فلم باکس آفس پر کسی بڑی کامیابی کے ساتھ سامنے نہیں آئی، لیکن اپنے موضوع اور شاندار اداکاری کی وجہ سے شائقین کی توجہ حاصل کی۔
اس کے بعد Haq (حق) کو Netflix (نیٹ فلکس)پر 2 جنوری 2026 سے اسٹریمنگ کے لیے جاری کیا گیا، تاکہ وہ لوگ جو تھیٹر میں فلم نہیں دیکھ پائے تھے اسے اپنے گھروں میں آرام سے دیکھ سکیں۔
پوسٹ-ریلیز ری ایکشن اور عوامی ردعمل
فلم کے نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے کے بعد، فلم کے ہدایتکار سوپرن ایس۔ ورما (Suparn S. Varma) کے پاس ہزاروں پیغامات اور فون کالز آنا شروع ہوگئے، کیونکہ لوگوں نے فلم کی کہانی، اداکاری اور سچے پیغام کی وجہ سے اسے بے حد سراہا۔
سماجی میڈیا صارفین نے فلم کو ایک عمیق اور جذباتی عدالت-انہ سفر قرار دیا، جس نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ معاشرتی اور قانونی موضوعات پر اہم بحث بھی شروع کی۔
جیسا کہ Haq (حق) نے عدالت، انصاف اور عورتوں کے حقوق جیسے موضوعات کو موضوعِ بحث بنایا ہے، اس فلم نے بھارتی سنیما میں ایک نئے انداز کی نمائندگی کی ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو قانونی نظام کی پیچیدگیوں سے روشناس کیا گیا، بلکہ ایک حقیقی تحریک اور کہانی بھی سامنے آئی جو آج بھی عوامی ذہنوں میں گونج رہی ہے۔

