Google Engineer Shocked: AI Coding Tool Builds in 1 Hour What Took Humans a Year | Jaana Dogan Reveals

Google Engineer Shocked: AI Coding Tool Builds in 1 Hour What Took Humans a Year | Jaana Dogan Reveals

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی دنیا میں ایک حیران کن واقعے نے ٹیکنالوجی (Technology) کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی کی ایک سینیئر انجینئر جانا دوگان (Jaana Dogan) نے انکشاف کیا ہے کہ ایک اے آئی کوڈنگ ٹول نے صرف ایک گھنٹے میں وہ سافٹ ویئر تیار کر دیا جس پر ان کی ٹیم نے پورا ایک سال محنت کی تھی۔

جانا دوگان (Jaana Dogan) کے بیان نے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں اے آئی انقلاب پر نئی بحث چھیڑ دی، جہاں Claude Code نے ایک گھنٹے میں سال بھر کا کام کیا

یہ بیان سوشل میڈیا (Social Media) پر وائرل ہونے کے بعد سافٹ ویئر انجینئرنگ (Software Engineering) کمیونٹی میں شدید بحث کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا مستقبل میں اے آئی (AI) انسانوں کی جگہ لے لے گی یا انسان اور مشین مل کر کام کریں گے۔

جانا دوگان (Jaana Dogan) کے مطابق، ان کی ٹیم ایک پیچیدہ کوڈنگ سسٹم (Coding System) پر کام کر رہی تھی جس میں ڈیٹا پروسیسنگ (Data Processing)، ایرر ہینڈلنگ (Error Handling) اور یوزر انٹرفیس (User Interface) جیسے کئی اہم مراحل شامل تھے۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں ماہر انجینئرز (Engineers) کو بارہ ماہ لگے۔

تاہم جب اسی نوعیت کا کام ایک جدید اے آئی کوڈنگ ٹول  کے ذریعے آزمایا گیا تو نتیجہ حیران کن تھا۔ صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر مکمل طور پر فعال کوڈ تیار ہو گیا، جو معیار (Quality) اور کارکردگی (Performance) کے لحاظ سے انسانی تیار کردہ سافٹ ویئر کے برابر تھا۔

یہ واقعہ عالمی سطح پر ٹرینڈنگ (Trending Globally) بن گیا اور مختلف ممالک بشمول امریکا (United States)، بھارت (India) اور یورپ (Europe) میں ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کئی انجینئرز نے اسے مستقبل کی جھلک قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے نوکریوں (Jobs) کے لیے خطرہ بتایا۔

ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، جانا دوگان (Jaana Dogan) نے کہا کہ آج سافٹ ویئر انجینئرز کے درمیان سب سے زیادہ متنازع موضوع یہی ہے کہ آیا اے آئی ٹولز (AI Tools) تخلیقی سوچ (Creative Thinking) کو بہتر بناتے ہیں یا انسانی مہارت کو غیر ضروری بنا دیتے ہیں۔

انڈین ایکسپریس (Indian Express) کے مطابق، بہت سے نوجوان پروگرامرز (Programmers) اب اے آئی کو بطور اسسٹنٹ استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کی رفتار (Speed) اور پیداوار (Productivity) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جانا دوگان (Jaana Dogan) جیسے ماہرین اس تبدیلی کو روکنے کے بجائے سمجھنے پر زور دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کوڈنگ ٹولز جیسے Claude Code نہ صرف وقت بچاتے ہیں بلکہ انسانی غلطیوں (Human Errors) کو بھی کم کرتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ جونیئر ڈویلپرز (Junior Developers) کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

جانا دوگان (Jaana Dogan) نے واضح کیا کہ اے آئی کو انسانوں کا متبادل نہیں بلکہ ایک طاقتور آلہ (Powerful Tool) سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق جو انجینئرز اے آئی کے ساتھ کام کرنا سیکھ لیں گے وہ مستقبل میں زیادہ کامیاب ہوں گے۔

ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار تبدیلی نے تعلیمی اداروں (Educational Institutions) کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب کمپیوٹر سائنس (Computer Science) کے نصاب میں اے آئی اور مشین لرننگ (Machine Learning) کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے تاکہ آنے والی نسل تیار ہو سکے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جانا دوگان (Jaana Dogan) کا بیان صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ آنے والے دور کی نشاندہی ہے۔ اے آئی (AI) اور انسان (Human) کے درمیان یہ شراکت داری سافٹ ویئر انجینئرنگ کو ایک نئی سمت میں لے جا رہی ہے، جہاں رفتار، معیار اور جدت (Innovation) سب ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔