امریکہ کے سب سے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبے 'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) کے فنڈز کے حوالے سے ڈیموکریٹس اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان شدید محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل، پولیٹیکو اور اسٹریٹس بلاگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، نیویارک اور نیو جرسی کو ملانے والی اس ریلوے سرنگ کے اربوں ڈالر کے فنڈز روک دیے گئے ہیں، جس سے منصوبے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان فنڈز کو فوری طور پر جاری کریں تاکہ ملک کے مصروف ترین ریل روٹ کو مکمل کیا جا سکے، ورنہ تاخیر کی صورت میں معاشی نقصانات کا خدشہ ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق، 'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) پروجیکٹ کی کل لاگت 16 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، اور اس کا مقصد ہڈسن دریا کے نیچے سے گزرنے والی صدیوں پرانی ٹرین سرنگوں کی جگہ لینا ہے۔ پولیٹیکو (Politico) کے مطابق، ڈیموکریٹک رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے فنڈز روکے رکھے تو اس سے نہ صرف ہزاروں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی بلکہ نیویارک کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے فنڈز کی ریلیز کو روکنے کے اقدام کو سیاسی 'یرغمال سازی' (Hostage Taking) سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس کا اثر صرف ایک منصوبے پر نہیں بلکہ پورے ریجن کے انفراسٹرکچر پر پڑ رہا ہے۔
نیویارک اسٹریٹس بلاگ (NYC Streetsblog) کی رپورٹ میں ایک اور سنگین پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرمپ صرف 'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) ہی نہیں بلکہ سیکنڈ ایونیو سب وے (Second Avenue Subway) کے فنڈز کو بھی روک رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز وفاقی قانون کے تحت پہلے ہی منظور شدہ تھے، لیکن نئی انتظامیہ ان پر نظرِ ثانی کے بہانے رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ اس صورتحال نے نیویارک کے حکام کو پریشان کر دیا ہے، کیونکہ وہ اپنی اہم ترین ٹرانسپورٹ اسکیموں کے لیے وفاقی مدد کے محتاج ہیں۔ ڈیموکریٹس کا ماننا ہے کہ یہ اقدام سیاسی انتقام کا حصہ ہے، جو نیویارک جیسے ریاستوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پولیٹیکو (Politico) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سینیٹر چک شومر اور دیگر رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس کو خطوط لکھے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ 'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) کی تعمیر میں مزید تاخیر پورے امریکہ کی جی ڈی پی (GDP) کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ یہ روٹ معاشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ ان منصوبوں کی لاگت اور کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہتے ہیں تاکہ عوامی ٹیکس کے پیسے کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک بہانہ ہے اور اصل مقصد بڑے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) کا تنازع اب ایک فنی منصوبے سے بڑھ کر ایک سیاسی میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ پولیٹیکو (Politico) کی رپورٹ کے مطابق، آنے والے ہفتے اس منصوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ ڈیموکریٹس اب قانونی راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔'گیٹ وے ٹنل' (Gateway Tunnel) کی تعمیر میں رکاوٹ کا مطلب نیویارک اور نیو جرسی کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی زندگیوں میں خلل ڈالنا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کا خلاصہ ہے کہ اگر فنڈز جاری نہ ہوئے تو یہ منصوبہ تاریخ کے سب سے مہنگے اور ادھورے خوابوں میں سے ایک بن جائے گا۔ اسٹریٹس بلاگ کے مطابق، نیویارک کی عوام اب اپنی ٹرانسپورٹ کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکلنے کو بھی تیار ہے۔

