Fatima Jatoi Viral Video Leak: Deepfake Controversy & Cyber Security Concerns

Fatima Jatoi Viral Video Leak: Deepfake Controversy & Cyber Security Concerns

پاکستان کی ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس نے آن لائن پرائیویسی اور اخلاقیات پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ بالی ووڈ لائف (Bollywood Life)، اسومبارٹا (Asombarta) اور لوک مت ٹائمز (Lokmat Times) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر فاطمہ جتوئی (Fatima Jatoi) کی ایک مبینہ نجی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ڈیجیٹل میڈیا کے منفی استعمال اور مشہور شخصیات کی ذاتی زندگیوں پر ہونے والے حملوں کی بحث کو چھیڑ دیا ہے، جبکہ ماہرین اسے ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کا شاخسانہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

Explore the full story behind the 6-minute 39-second viral video of Pakistani influencer Fatima Jatoi. Read about deepfake technology, cyber security risks, and insights from Bollywood Life and Lokmat Times.

لوک مت ٹائمز (Lokmat Times) کی رپورٹ کے مطابق، فاطمہ جتوئی (Fatima Jatoi) سے پہلے مشہور ٹک ٹاکر امشا رحمان (Imsha Rehman) بھی اسی طرح کے تنازع کا شکار ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فاطمہ جتوئی کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں قوی امکان ہے کہ یہ ڈیپ فیک ایم ایم ایس (Deepfake MMS) ہو سکتی ہے، یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال کرتے ہوئے کسی کی شکل کو تبدیل کر کے جعلی مواد تیار کیا گیا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی معصوم انسان کی ساکھ کو منٹوں میں خاک میں ملایا جا سکتا ہے، جو کہ دورِ حاضر کا ایک سنگین سائبر کرائم (Cyber Crime) ہے۔


بالی ووڈ لائف (Bollywood Life) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر مختلف دورانیے کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں 6 منٹ 39 سیکنڈ (6 Minute 39 Second) اور 7 منٹ 11 سیکنڈ (7 Minute 11 Second) کی مبینہ ویڈیوز شامل ہیں۔ ان ویڈیوز کے لنکس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (X)، ٹیلی گرام (Telegram) اور واٹس ایپ (WhatsApp) پر تیزی سے شیئر کیے جا رہے ہیں۔ اسومبارٹا (Asombarta) کے مطابق، ان ویڈیوز کے لیک (Leak) ہونے کے پیچھے کسی منظم گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو ہیکنگ (Hacking) یا نجی ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کر کے انفلوئنسرز کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


سائبر سیکیورٹی (Cyber Security) کے ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی ویڈیوز کے لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ لنکس ہیکنگ یا فشنگ (Phishing) کا ذریعہ ہو سکتے ہیں جو آپ کے اپنے موبائل فون کا ڈیٹا بھی چوری کر سکتے ہیں۔ لوک مت ٹائمز (Lokmat Times) کے مطابق، فاطمہ جتوئی (Fatima Jatoi) کے چاہنے والوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی ہے اور حکومتِ پاکستان کے متعلقہ اداروں جیسے ایف آئی اے (FIA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان جعلی ویڈیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔


 فاطمہ جتوئی (Fatima Jatoi) کی وائرل ویڈیو کا معاملہ ڈیجیٹل دور کی ایک تاریک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ بالی ووڈ لائف (Bollywood Life) کی رپورٹ کے مطابق، اس طرح کے واقعات نہ صرف متاثرہ شخص کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں بے راہ روی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین ذمہ داری کا ثبوت دیں اور کسی کی نجی زندگی سے متعلق غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے کے بجائے اسے رپورٹ (Report) کریں، تاکہ ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فاطمہ جتوئی (Fatima Jatoi) اس معاملے پر کیا قانونی راستہ اختیار کرتی ہیں اور کیا ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔