Fighting breaks out in east Yemen along border with Saudi Arabia

Fighting breaks out in east Yemen along border with Saudi Arabia

یمن(Yemen)، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا ہے، اب ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ تازہ ترین تنازع حوثی باغیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان نہیں، بلکہ ان گروہوں کے درمیان ہے جو کبھی اتحادی ہوا کرتے تھے۔ یمن(Yemen) کے مشرقی صوبے حضرموت میں، جو سعودی عرب(Saudi Arabia) کی سرحد سے متصل ہے، سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی)، کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف یمن کے مستقبل بلکہ سعودی عرب(Saudi Arabia) اور یمن کے تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے۔

Fighting breaks out in east Yemen along border with Saudi Arabia

 تازہ کشیدگی کا پس منظر

 اس نئے تنازع کی جڑیں یمن کی پیچیدہ تاریخ اور موجودہ سیاسی منظرنامے میں پیوست ہیں۔

 جنوبی یمن کی تاریخ: 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن(Yemen) کے اتحاد سے قبل، جنوبی یمن ایک آزاد ملک تھا۔ علیحدگی کی خواہش جنوبی علاقوں میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ 

 سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا قیام: 2017 میں قائم ہونے والی ایس ٹی سی کا بنیادی مقصد جنوبی یمن(Yemen) کو ایک بار پھر ایک آزاد ریاست بنانا ہے۔ متحدہ عرب امارات شروع سے ہی اس گروہ کا سب سے بڑا حمایتی رہا ہے۔

 اتحادیوں میں دراڑ: اگرچہ سعودی عرب(Saudi Arabia)  اور متحدہ عرب امارات، دونوں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت اور حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں اتحادی تھے، لیکن یمن کے مستقبل کے حوالے سے ان کے مفادات مختلف ہیں۔ یو اے ای جنوبی یمن(Yemen) میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ سعودی عرب(Saudi Arabia) اپنی سرحدوں پر کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دسمبر 2025 میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایس ٹی سی نے سعودی عرب(Saudi Arabia)  کی سرحد سے متصل صوبوں حضرموت اور المہرہ کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ ریاض نے اس اقدام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

 حضرموت: نئے تنازع کا مرکز جنوری 2026 کے اوائل میں حضرموت میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب خطے کے سعودی حمایت یافتہ گورنر، سالم الخنبشی، کی وفادار افواج نے ایس ٹی سی کے زیر کنٹرول فوجی اڈوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کی۔ ایس ٹی سی نے فوری طور پر سعودی عرب(Saudi Arabia)  پر الزام عائد کیا کہ اس نے سرحد کے قریب ان کی افواج پر بمباری کی ہے۔ دوسری طرف، گورنر الخنبشی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد "پرامن اور منظم طریقے سے" صوبے میں ریاستی رٹ بحال کرنا اور اسے افراتفری سے بچانا ہے۔ ان کی افواج نے خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے، الخشعہ، پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ لڑائی سعودی عرب اور یمن کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جہاں ریاض اب اپنے سابقہ شراکت دار (یو اے ای) کے حمایت یافتہ گروہ کے خلاف براہ راست کارروائی میں ملوث نظر آتا ہے۔

سعودی عرب(Saudi Arabia)  بمقابلہ متحدہ عرب امارات: 

مفادات کا ٹکراؤ یہ تنازع اب کھل کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

 سعودی عرب کے خدشات: سعودی عرب(Saudi Arabia)  یمن کی طویل سرحد پر کسی بھی ایسے گروہ کی موجودگی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جو اس کے کنٹرول سے باہر ہو۔ ایس ٹی سی کا حضرموت اور المہرہ میں کنٹرول براہ راست سعودی قومی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے۔ سعودی قیادت چاہتی ہے کہ ایس ٹی سی تحلیل ہو جائے اور اس کی افواج بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ماتحت کام کریں۔

 متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی: 

یو اے ای، ایس ٹی سی کی حمایت کے ذریعے، جنوبی یمن کی بندرگاہوں اور بحیرہ احمر کے اہم بحری راستوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ یمن کو اپنے علاقائی عزائم کے لیے ایک اہم مہرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی فضائی حملے "انتہائی محتاط" اور "سرجیکل" ہیں، جن کا مقصد ایس ٹی سی کو ایک واضح پیغام دینا ہے کہ ان کی پیش قدمی ناقابل قبول ہے۔ مختلف گروہوں کے بیانات اور ردعمل اس لڑائی پر مختلف فریقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے: ایس ٹی سی کا مؤقف: ایس ٹی سی کے رہنما، عیدروس الزبیدی، نے دو سالہ عبوری دور کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد جنوبی یمن کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ ایس ٹی سی کے فوجی ترجمان نے اس جنگ کو "وجود کی جنگ" قرار دیا ہے۔ یمنی حکومت کا ردعمل: یمنی صدارتی مشیر نے ایس ٹی سی کے اقدام کو "خودکش قدم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے ملیشیا طرز عمل کی تصدیق کرتا ہے۔

 حوثیوں کا نظریہ: حوثی، جو دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن(Yemen) کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، اس پورے کھیل کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ وہ نہ تو سعودی حمایت یافتہ حکومت کو قبول کریں گے اور نہ ہی یو اے ای کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کو ملک کے جنوب میں حکومت کرنے دیں گے۔ علاقائی اور بین الاقوامی اثرات یمن کا تنازع اب صرف ایک مقامی خانہ جنگی نہیں رہا، بلکہ یہ ایک علاقائی اور بین الاقوامی شطرنج کی بساط بن چکا ہے۔ بحیرہ احمر کی اہمیت: جو کوئی بھی یمن کو کنٹرول کرتا ہے، وہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب پر جزوی کنٹرول حاصل کر لیتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

 علاقائی طاقت کا کھیل: سعودی عرب(Saudi Arabia)  اور یمن کا یہ نیا بحران دراصل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خطے میں بالادستی کی وسیع تر کشمکش کا حصہ ہے۔

 انسانی بحران: اس نئی لڑائی نے یمن(Yemen) کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عدن ایئرپورٹ کی بندش اور نئی پابندیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

خیر یہ کہا جاسکتا ہے کہ  یمن میں حضرموت کا محاذ کھلنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازع ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔سعودی عرب(Saudi Arabia and Yemen)  اور یمن کے درمیان تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے، اور ریاض اب اپنے اتحادی یو اے ای کے عزائم کو محدود کرنے کے لیے براہ راست مداخلت کر رہا ہے۔ ایک طرف حوثی باغی ہیں، دوسری طرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، اور اب تیسری طرف جنوبی علیحدگی پسند۔ ان تینوں قوتوں کے درمیان علاقائی طاقتوں کی پراکسی جنگ نے یمن کے عوام کے لیے امن کی امید کو مزید معدوم کر دیا ہے۔ یمن کا مستقبل اب نہ صرف یمنی فریقین کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس کا انحصار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بدلتے ہوئے تعلقات اور ان کے اگلے اقدامات پر ہوگا۔تاثرین کے لیے بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔