Doomsday Clock 2026: Scientists Set Time to 85 Seconds to Midnight

Doomsday Clock 2026: Scientists Set Time to 85 Seconds to Midnight

دنیا بھر کے سائنسدانوں نے انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے 'قیامت کی گھڑی' یعنی ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock) کے وقت کو نصف شب سے محض 85 سیکنڈ کے فاصلے پر کر دیا ہے، جو تاریخ میں تباہی کا قریب ترین وقت ہے۔ سی این این، یاہو نیوز اور سی بی ایس نیوز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، 'بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس' نے سال 2026ء کے لیے وقت کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ، مصنوعی ذہانت (AI) کے بے لگام استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا کو بقا کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ گھڑی دراصل ایک استعارہ ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ بنی نوع انسان اپنی ہی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی اور تنازعات کی وجہ سے عالمی تباہی کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔

The Doomsday Clock reaches 85 seconds to midnight in 2026, the closest ever. Learn about the nuclear and AI threats driving this urgent warning

سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock)  کا وقت بدلنے کی بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایٹمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں نے ایٹمی تصادم کے خطرے کو حقیقت بنا دیا ہے۔ یاہو نیوز (Yahoo News) کے مطابق، یہ وقت 1947ء میں گھڑی کے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک ترین مقام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "آدھی رات" (Midnight) مکمل عالمی تباہی کی علامت ہے، اور ہم اس سے صرف چند لمحوں کے فاصلے پر کھڑے ہیں، جو کہ عالمی قیادت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


سی بی ایس نیوز (CBS News) کی رپورٹ کے مطابق، اس بار ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock) کے وقت کے تعین میں 'سائبر خطرات' اور 'مصنوعی ذہانت' (AI) کو بھی کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی کا استعمال حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری یا غلط معلومات (Disinformation) پھیلا کر عالمی جمہوریتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ یاہو نیوز کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی قدرتی آفات اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت بھی اس تباہی کی گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ دنیا ابھی تک کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔


سی این این (CNN) کے مطابق، 'بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس' کے بورڈ میں دنیا کے ممتاز ماہرین اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان شامل ہیں جو ہر سال اس وقت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock) صرف ایک ڈرانے والا آلہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے ایکشن لینے کی دعوت ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، اگر عالمی رہنماؤں نے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ گھڑی آدھی رات کے مزید قریب جا سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں غلطی کی گنجائش ختم ہو چکی ہے"۔


ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock) کی حالیہ اپڈیٹ بنی نوع انسان کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔ یاہو نیوز (Yahoo News) کی رپورٹ کے مطابق، 85 سیکنڈ کا فاصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ڈومز ڈے کلاک (doomsday clock)  کا یہ وقت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی امن اور بقا کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ سی این این (CNN) کا خلاصہ ہے کہ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، لیکن اب بھی وقت ہے کہ سائنس اور سفارت کاری کے ذریعے ان سوئیوں کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ سی بی ایس نیوز (CBS News) کے مطابق، 2026ء کا یہ اعلان تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔