سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ (Greenland) کو خریدنے یا اسے امریکی ریاست بنانے کی خواہش نے ایک بار پھر عالمی سطح پر سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ڈان نیوز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، گرین لینڈ (Greenland) کی حکومت اور وہاں کے عوام نے ٹرمپ کی ان تجاویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ بکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی اس دلچسپی کے پیچھے چھپے اسٹریٹجک اور معاشی مقاصد نے جہاں ڈنمارک اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے، وہیں مقامی آبادی میں اپنی خود مختاری کے حوالے سے شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں، جو کسی بھی قیمت پر امریکی شہری بننے کے خواہاں نہیں ہیں۔
ڈان نیوز (Dawn) کی ایک تفصیلی رپورٹ (Explainer) کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ (Greenland) میں دلچسپی محض رئیل اسٹیٹ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ شدید جغرافیائی و سیاسی (Geopolitical) اہمیت کی حامل ہے۔ گرین لینڈ قدرتی وسائل، بشمول تیل، گیس اور نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) سے مالا مال ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس کے علاوہ، آرکٹک خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ اس جزیرے پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اسے 21 ویں صدی کا 'الاسکا' بنانا چاہتے ہیں، لیکن ڈنمارک نے اسے ایک "مضحکہ خیز" مطالبہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔
ڈان نیوز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، گرین لینڈ کے عوام نے ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم امریکی نہیں بننا چاہتے"۔ مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ (Greenland) کوئی ایسی شے نہیں جسے ایک ملک سے دوسرے ملک کو فروخت کیا جا سکے۔ ٹرمپ کی جانب سے اسے امریکی نقشے میں شامل کرنے کی "خام خیالی" (Annexation Fantasies) کو وہاں کے سیاست دانوں نے اپنی توہین قرار دیا ہے۔ ڈنمارک کی حکومت نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے کہ گرین لینڈ کی قسمت کا فیصلہ صرف وہاں کے لوگ ہی کر سکتے ہیں، اور وہ ڈنمارک کی مملکت کا ایک خود مختار حصہ ہیں۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں 'تھولے ایئر بیس' (Thule Air Base) کے ذریعے اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، جو امریکی دفاعی میزائل سسٹم کا ایک اہم حصہ ہے۔ تاہم، ٹرمپ کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ (Greenland) پر مکمل ملکیتی حقوق حاصل کرنا امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، گرین لینڈ کے باشندوں کو خدشہ ہے کہ امریکی کنٹرول کے بعد ان کی منفرد ثقافت اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ڈان نیوز کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جیسے جیسے آرکٹک کی برف پگھل رہی ہے، اس خطے کی اہمیت اور اس پر قبضے کی جنگ مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔
گرین لینڈ (Greenland) کی خریداری کا تنازع محض ایک سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان وسائل پر قبضے کی ایک گہری مہم ہے۔ ڈان نیوز (Dawn) کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی ضد نے ڈنمارک کے ساتھ امریکہ کے دیرینہ تعلقات کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ گرین لینڈ (Greenland) کے عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی زمین اور شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ آرکٹک کے اس جزیرے کی اہمیت مستقبل قریب میں بین الاقوامی سیاست کا مرکز بنی رہے گی۔

