پاکستان (Pakistan) میں 2026 کے نئے سال کے آغاز پر خوشخبری یہ ہے کہ حکومت نے diesel petrol prices میں نمایاں کمی کے بعد عوامی سطح پر پبلک ٹرانسپورٹ (Public Transport) کرایوں میں بھی خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مسافروں کو اقتصادی طور پر ریلیف دینا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی (Inflation) کے بیچ روزمرہ سفر کو آسان بنانا ہے۔
پنجاب ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (Punjab Transport Department) نے اعلان کیا ہے کہ لاہور (Lahore) سے دیگر شہروں تک بسوں کے کرایوں میں Rs60 سے Rs200 تک کمی کی گئی ہے، تاکہ لمبے فاصلے کے سفر سے وابستہ مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول (Petrol) اور ہائی سپیڈ ڈیزل (High-Speed Diesel) کی قیمتوں میں کی گئی کمی کے فورا بعد سامنے آیا ہے، جس سے پبلک ٹرانسپورٹ کے آپریٹنگ اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
حالیہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت فی لیٹر Rs10.28 اور ڈیزل کی قیمت Rs8.57 کم کر دی گئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
✨ نئے پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں کی تفصیلات (Updated Fares)
لاہور سے دیگر شہروں تک نئے کرایے کچھ یوں مقرر کیے گئے ہیں، جو پچھلی نرخوں کے مقابلے میں کم کیے گئے ہیں:
- لاہور (Lahore) سے اسلام آباد (Islamabad) – Rs1,850 (پہلے Rs1,910)
- لاہور سے مری (Murree) – Rs2,290 (پہلے Rs2,370)
- لاہور سے پشاور (Peshawar) – Rs2,530 (پہلے Rs2,610)
- لاہور سے منسہرہ (Mansehra) – Rs2,420 (پہلے Rs2,500)
- لاہور سے ایبٹ آباد (Abbottabad) – Rs2,240 (پہلے Rs2,310)
- لاہور سے فیصل آباد (Faisalabad) – Rs980 (پہلے Rs1,010)
- لاہور سے سکھر (Sukkur) – Rs3,400 (پہلے Rs3,510)
- لاہور سے کراچی (Karachi) – Rs5,620 (پہلے Rs5,800)
- لاہور سے ملتان (Multan) – Rs1,650 (پہلے Rs1,700)
- لاہور سے صد یق آباد (Sadiqabad) – Rs2,430 (پہلے Rs2,510)
اس نئی کرایہ پالیسی (Fare Policy) کا اطلاق فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی (Regional Transport Authority) کے سیکرٹری نے واضح کیا ہے کہ تمام آپریٹرز کو نئے نرخوں کے تحت ٹکٹ جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
📊 *diesel petrol prices* اور ٹرانسپورٹ کرایوں کا تعلق
عام طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے براہِ راست diesel petrol prices کے اثرات سے جڑے ہوتے ہیں، کیونکہ پیٹرول (Petrol) اور ڈیزل (Diesel) وہ بنیادی ایندھن ہیں جن پر بسیں اور بڑے روڈ گاڑیاں انحصار کرتی ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ٹرانسپورٹرز اپنے کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کا مداوا ہو سکے، اور جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔
ماہرین معاشیات (Economists) کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی کی پالیسی اور عالمی تیل (Global Oil) مارکیٹ میں اتار-چڑھاؤ عوامی سفر کی قیمتوں پر بہت بڑا اثر ڈالتی ہے۔ سبسڈی یا قیمتوں میں کمی سے نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر کو اقتصادی فائدہ ملتا ہے بلکہ روزگار اور سفر کی سہولت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
یہ عالمی معاشی (Global Economy) عوامل اور گھریلو معاشی اضطراب کا ملاپ ہے جو عام آدمی کے روزمرہ سفر، کاروباری اخراجات، اور معاشی گرمجوشی (Economic Vibrancy) پر اثر انداز ہوتا ہے۔
📌 عوامی ردعمل اور مستقبل کی توقعات
عوام خاص طور پر وہ لوگ جو روزانہ کام یا کاروبار کے لیے بس سروس (Bus Service) استعمال کرتے ہیں، اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ Rs60 سے Rs200 تک کی کمی نے روزانہ کے سفر کا بوجھ نمایاں طور پر کم کیا ہے، خاص طور پر طویل فاصلہ کے سفر پر۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل میں عالمی تیل قیمتوں (Global Oil Prices) میں کوئی اچانک اضافہ عوامی سفر پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، لہٰذا حکومتی پالیسیز کو مضبوط اور متوازن رکھنا ضروری ہے۔
کل ملا کر، یہ اقدام نہ صرف diesel petrol prices میں کمی کے فوائد کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ ہے بلکہ معاشی بحالی (Economic Relief) اور عام آدمی کے سفر کو زیادہ سستا اور قابل بھروسہ بنانے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

