سوئٹزرلینڈ کے برفیلے پہاڑوں کے درمیان واقع شہر ڈیووس (Davos) ایک بار پھر عالمی طاقتوں اور معیشت کے بڑے کھلاڑیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ بلک (Blick)، ہینڈلز بلاٹ (Handelsblatt) اور ٹیگز آنزیگر (Tages-Anzeiger) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس سال کا ورلڈ اکنامک فورم (WEF) ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی اور ان کے عالمی سیاست پر پڑنے والے گہرے اثرات کے زیرِ سایہ ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا کے امیر ترین افراد کے نجی طیارے ڈیووس پہنچ رہے ہیں، وہاں دوسری طرف ٹرمپ کی پالیسیوں کے حوالے سے تشویش اور تنبیہات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ہینڈلز بلاٹ (Handelsblatt) کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی اقتصادی فورم پر اپنے مخصوص انداز کی چھاپ چھوڑ دی ہے۔ ان کی ممکنہ صدارت اور "امریکہ فرسٹ" کی پالیسی نے ڈیووس میں موجود مندوبین کے درمیان کھلبلی مچا دی ہے۔
دوسری جانب، بلک (Blick) کی رپورٹ میں سابق امریکی مشیرِ قومی سلامتی جان بولٹن نے سوئس وفاقی کونسل (Bundesrat) کو ایک غیر معمولی مشورہ دیا ہے۔ بولٹن نے خبردار کیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست رابطوں سے گریز کیا جائے، کیونکہ ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کسی بھی وقت پیچیدہ صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔
ٹیگز آنزیگر (Tages-Anzeiger) کی رپورٹ میں ڈیووس (Davos) کے ایک اور دلچسپ پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے طاقتور ترین افراد کو لانے والے نجی طیارے اور حکومتی جہاز اس وقت 'پلین اسپاٹرز' (Plane Spotters) کے لیے ایک بڑی کشش بنے ہوئے ہیں۔ زیورخ ایئرپورٹ پر ان وی آئی پی طیاروں کی آمد و رفت نے ایک میلے کا سماں پیدا کر دیا ہے۔ تاہم، ان پرتعیش طیاروں کی آمد نے ایک بار پھر ماحولیاتی تحفظ اور اشرافیہ کے طرزِ زندگی پر بحث چھیڑ دی ہے، جو کہ ورلڈ اکنامک فورم کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
بلک (Blick) کی رپورٹ کے مطابق، جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی غیر متوقع ہوتی ہے، جس سے چھوٹے ممالک کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہینڈلز بلاٹ (Handelsblatt) کے مطابق، ڈیووس (Davos) میں ہونے والی بات چیت کا محور اب یہ ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہیں تو عالمی تجارت اور ماحولیاتی معاہدوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ ٹیگز آنزیگر (Tages-Anzeiger) کے مطابق، سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود، مظاہرین نے بھی ایلیٹ طبقے کے اس اجتماع کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔
ڈیووس (Davos) 2026 کا اجلاس معاشی سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔ ہینڈلز بلاٹ (Handelsblatt) کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کا سایہ ہر بحث پر حاوی نظر آتا ہے۔ جان بولٹن کی سوئس حکام کو دی گئی تنبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر ٹرمپ کی واپسی کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے اختتام پر عالمی لیڈران کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو پاتے ہیں یا یہ فورم صرف طاقتوروں کی نمائش تک محدود رہتا ہے۔

