بالی ووڈ کی مقبول ترین جنگی فلم کے سیکوئل بارڈر 2 (Border 2) کی ریلیز سے قبل ہی بڑے تنازعات کھڑے ہو گئے ہیں۔ آج تک، ایم ایس این (MSN) اور نوبھارت ٹائمز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس فلم پر خلیجی ممالک (Gulf Countries) میں نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 23 جنوری 2026 کو ریلیز ہونے والی اس فلم کو بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سینسر بورڈز نے کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ فلم میں "پاکستان مخالف" (Anti-Pakistan) مواد شامل ہے جو خطے کی سیاسی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی کے لیے حساس ثابت ہو سکتا ہے۔
آج تک (Aaj Tak) کی رپورٹ کے مطابق، بارڈر 2 (Border 2) کو بھارتی سینسر بورڈ (CBFC) نے بغیر کسی کٹ کے 'U/A' سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، جس کا کل رن ٹائم 3 گھنٹے اور 16 منٹ ہے۔ نوبھارت ٹائمز (Navbharat Times) کے مطابق، فلم سازوں نے خلیجی ممالک میں ریلیز کے لیے کافی کوششیں کیں لیکن وہاں کے سخت قوانین کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سنی دیول کے لیے دوسرا بڑا دھچکا ہے کیونکہ اس سے قبل 'غدر 2' کو بھی انہی وجوہات کی بنا پر کئی عرب ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے فلم کے بیرونِ ملک (Overseas) بزنس کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔
ایم ایس این (MSN) کی رپورٹ کے مطابق، بارڈر 2 (Border 2) کی ریلیز کے وقت باکس آفس پر ایک بڑا تصادم (Clash) دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف سلمان خان کی فلم 'بیٹل آف گالوان' کے حوالے سے خبریں گرم ہیں تو دوسری طرف پربھاس کی فلم 'دی راجہ صاحب' بھی میدان میں موجود ہے۔ تھیٹر مالکان کے سامنے یہ کڑی شرط رکھی گئی ہے کہ وہ سنی دیول کی اس بڑی فلم کو زیادہ اسکرینز فراہم کریں۔ ٹریڈ تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیجی ممالک میں پابندی کے باوجود بھارت میں فلم کی ایڈوانس بکنگ غیر معمولی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پہلے دن 40 سے 50 کروڑ روپے کا بزنس کر سکتی ہے۔
نوبھارت ٹائمز (Navbharat Times) کے مطابق، بارڈر 2 (Border 2) کی کہانی 1971 کی جنگ کے گرد گھومتی ہے، جس میں ورون دھون اور دلجیت دوسانجھ بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ آج تک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلم کے ٹریلر میں شامل چند جارحانہ مکالموں پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑی ہوئی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے حب الوطنی قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے اشتعال انگیز سمجھ رہے ہیں۔ ایم ایس این کے مطابق، سلمان خان اور پربھاس کی فلموں کے ساتھ مقابلے کے باعث سینما گھروں کی تقسیم ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، تاہم سنی دیول کی "ماس اپیل" فلم کو برتری دلا سکتی ہے۔
بارڈر 2 (Border 2) اپنی ریلیز سے پہلے ہی شہ سرخیوں میں ہے۔ نوبھارت ٹائمز (Navbharat Times) کے مطابق، خلیجی ممالک میں پابندی سے فلم کی ٹیم پریشان تو ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ بھارتی عوام اسے بلاک بسٹر بنائیں گے۔ آج تک (Aaj Tak) کی رپورٹ کے مطابق، 3 گھنٹے سے زائد طویل یہ فلم ناظرین کے صبر اور جذبات دونوں کا امتحان لے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ فلم 1997 کی اصل 'بارڈر' جیسا جادو دوبارہ جگا پاتی ہے یا تنازعات اس کی کمائی پر اثر انداز ہوں گے۔

