بھارت کے لیجنڈری موسیقار اے آر رحمان (AR Rahman) اس وقت بالی ووڈ میں تعصب کے حوالے سے اپنے حالیہ تبصروں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ الجزیرہ (Al Jazeera)، ہندوستان ٹائمز (Hindustan Times) اور ٹائمز آف انڈیا (TOI) کی رپورٹس کے مطابق، رحمان کے ان بیانات نے انڈین فلم انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں رحمان نے انڈسٹری کے اندرونی رویوں پر سوال اٹھائے ہیں، وہاں انہیں کچھ حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی فیچر رپورٹ کے مطابق، اے آر رحمان نے بالی ووڈ میں مبینہ گروہ بندی اور تعصب پر آواز اٹھائی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ تاہم، ہندوستان ٹائمز (Hindustan Times) کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے ان کے ریمارکس کو "فرقہ وارانہ" قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ تسلیمہ نسرین نے شاہ رخ خان اور سلمان خان جیسے بڑے ستاروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ نے ہمیشہ ٹیلنٹ کی قدر کی ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
دوسری جانب، ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی ایک ویڈیو رپورٹ میں اے آر رحمان نے اپنے کیریئر کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ایوارڈز کا بوجھ ان پر بہت زیادہ تھا، لیکن اب وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی میراث (Legacy) کو برقرار رکھنے سے زیادہ خود کو نئے سرے سے دریافت کرنا (Reinvention) اہم ہے۔ اے آر رحمان (AR Rahman) کے مطابق، فنکار کو مسلسل کچھ نیا کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ ماضی کے سحر میں ہی قید ہو کر نہ رہ جائے۔
ہندوستان ٹائمز (Hindustan Times) کے مطابق، تسلیمہ نسرین کا موقف ہے کہ رحمان جیسے قد آور فنکار کو اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے تھا، جبکہ الجزیرہ (Al Jazeera) کے مطابق، رحمان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے انڈسٹری کی تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (TOI) کی رپورٹ میں رحمان نے یہ بھی کہا کہ وہ اب ایوارڈز کی دوڑ سے باہر نکل کر خالص موسیقی پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ اے آر رحمان (AR Rahman) کا یہ بدلا ہوا انداز ان کے چاہنے والوں کے لیے کافی متاثر کن ثابت ہو رہا ہے۔
اے آر رحمان اس وقت نہ صرف اپنی موسیقی بلکہ اپنے خیالات کی وجہ سے بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ الجزیرہ (Al Jazeera) کے مطابق، بالی ووڈ میں تعصب کا معاملہ دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ جبکہ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ رحمان کی ذہنی پختگی اور فنکارانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اے آر رحمان (AR Rahman) کی جانب سے خود کو بدلنے اور میراث سے آگے بڑھنے کی بات نے نئے موسیقاروں کے لیے ایک نیا راستہ دکھایا ہے، اگرچہ حالیہ تنازعات نے ان کی شخصیت کے گرد ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


