عالمی شہرت یافتہ صوفی گلوکارہ اور "ملکہِ صوفی موسیقی" عابدہ پروین (Abida Parveen) کے حوالے سے گزشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی وفات کی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔
ڈیلی ٹائمز (Daily Times) اور منٹ مرر (Minute Mirror) کی رپورٹوں کے مطابق، لیجنڈری گلوکارہ کے اہل خانہ اور ان کی صاحبزادی نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عابدہ پروین بالکل خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام معلومات من گھڑت ہیں۔
سوشل میڈیا (Social Media) پر وائرل ہونے والی ان جھوٹی خبروں نے دنیا بھر میں موجود ان کے کروڑوں مداحوں کو شدید تشویش اور صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ عابدہ پروین (Abida Parveen) کی صاحبزادی مریم پروین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی والدہ نہ صرف حیات ہیں بلکہ مکمل طور پر صحت مند بھی ہیں۔ انہوں نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی غیر ذمہ دارانہ خبروں پر کان نہ دھریں اور بغیر تصدیق کے کوئی بھی معلومات شیئر نہ کریں۔
مریم پروین کے مطابق، عابدہ پروین اس وقت اپنے گھر پر موجود ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی نامور شخصیت کے حوالے سے "ڈیتھ ہوکس" (Death Hoax) یا وفات کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی ہو، تاہم عابدہ پروین جیسی قد آور شخصیت کے بارے میں ایسی خبروں نے اخلاقیات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عابدہ پروین (Abida Parveen) کا شمار دنیا کے بااثر ترین مسلمانوں اور صوفی گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں ان کی گراں قدر فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز (Nishan-e-Imtiaz)، ہلالِ امتیاز (Hilal-e-Imtiaz) اور ستارہِ امتیاز (Sitara-e-Imtiaz) جیسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
ان کی آواز کی سحر انگیزی اور صوفیانہ کلام کو پیش کرنے کا منفرد انداز انہیں دیگر گلوکاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ افواہوں کے گرم ہونے کے بعد جب ان کی خیریت کی خبر سامنے آئی تو دنیا بھر سے ان کے چاہنے والوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور ان کی طویل عمری کے لیے دعائیں کیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بالخصوص واٹس ایپ (WhatsApp) اور فیس بک (Facebook) پر تیزی سے پھیلنے والی اس طرح کی "جعلی خبریں" (Fake News) اکثر حساس نوعیت کے معاملات میں بحران پیدا کر دیتی ہیں۔
منٹ مرر (Minute Mirror) کی رپورٹ کے مطابق، کئی ویب سائٹس نے کلک بیٹ (Clickbait) کے لیے ان افواہوں کو بغیر کسی تصدیق کے شائع کیا، جس سے عوامی سطح پر افراتفری پھیلی۔ ڈیجیٹل دور میں خبر کی تصدیق کا فقدان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جہاں چند ویوز کی خاطر کسی کی زندگی اور موت سے متعلق جھوٹ پھیلانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
عابدہ پروین (Abida Parveen) نے اپنی پوری زندگی تصوف (Sufism) اور امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ان کی موسیقی سرحدوں کی قید سے آزاد ہے اور بھارت سمیت دنیا کے ہر کونے میں انہیں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے خاندانی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان (Official Statement) کے بعد اب سوشل میڈیا پر ان جھوٹی خبروں کے خلاف مہم بھی شروع ہو گئی ہے تاکہ مستقبل میں کسی لیجنڈ کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا جائے۔
فنی حلقوں نے بھی ان افواہوں کی مذمت کی ہے۔ کئی نامور فنکاروں اور گلوکاروں نے عابدہ پروین (Abida Parveen) کی صحت یابی اور سلامتی کے پیغامات شیئر کیے اور میڈیا ہاؤسز پر زور دیا کہ وہ ایسی خبریں چلانے سے پہلے متعلقہ افراد سے رابطہ ضرور کیا کریں۔ عابدہ پروین کی شخصیت محض ایک فنکار کی نہیں بلکہ وہ پاکستان کی ایک ثقافتی سفیر (Cultural Ambassador) ہیں، اور ان کے خلاف ایسی مہم جوئی ملک کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہے۔
مختصر یہ کہ عابدہ پروین (Abida Parveen) بالکل سلامت ہیں اور ان کے مداحوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے اہل خانہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی فنی مصروفیات اور عبادات میں مصروف ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کو پرکھنے کا کوئی مستند نظام ہونا چاہیے تاکہ افواہوں کی زد میں آکر انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جا سکے۔ عابدہ پروین کی آواز اور ان کا پیغام تا قیامت زندہ رہے گا، اور ایسی جھوٹی خبریں ان کی عظمت کو کم نہیں کر سکتیں۔

