بین الاقوامی سمندری حدود میں اس وقت شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے کیونکہ ایک بڑے بحری جہاز (cruise ship) پر مہلک "ہنٹا وائرس" کے مشتبہ پھیلاؤ کے نتیجے میں تین مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ بحرِ اوقیانوس (Atlantic) میں سفر کرنے والے ایک پرتعیش بحری جہاز پر پیش آیا، جہاں مسافروں میں اچانک شدید بخار اور سانس کی تکلیف کی شکایات سامنے آئیں۔ حکام نے فوری طور پر جہاز کو قرنطینہ کر دیا ہے تاکہ وائرس کو خشکی تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے اور ابتدائی طبی معائنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ہنٹا وائرس کی ایک نایاب اور مہلک قسم ہو سکتی ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) نے انکشاف کیا ہے کہ بحری جہاز (cruise ship) پر موجود دیگر درجنوں مسافروں میں بھی اسی طرح کی علامات پائی گئی ہیں، جس کے باعث طبی عملے نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے، اور ماہرین کی ٹیمیں متاثرہ جہاز تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وائرس کے منبع کا پتہ لگایا جا سکے۔
بی بی سی (BBC) کی لائیو اپڈیٹس کے مطابق، بحری جہاز (cruise ship) کی انتظامیہ نے تمام مسافروں کو ان کے کمروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں کے فضلے سے پھیلتا ہے، اور اب یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اتنے بڑے اور جدید جہاز پر یہ انفیکشن کیسے پہنچا۔ اس واقعے نے کروز انڈسٹری کے لیے ایک بار پھر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی وبائی امراض نے سمندری سفر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جہاز کے کپتان نے ساحلی حکام سے ہنگامی مدد طلب کی ہے، تاہم کسی بھی قریبی بندرگاہ نے فی الحال جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔
بحری جہاز (cruise ship) پر ہونے والا یہ وائرس آؤٹ بریک مئی 2026 کا ایک بڑا عالمی طبی بحران بنتا جا رہا ہے۔ تین ہلاکتوں نے دنیا بھر کے مسافروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور کروز کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اب سب سے بڑا چیلنج جہاز پر موجود سیکڑوں دیگر مسافروں کی جان بچانا اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ جب تک طبی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، یہ بحری جہاز سمندر کے بیچوں بیچ ایک تیرتے ہوئے قرنطینہ مرکز کی صورت اختیار کیے رہے گا، جہاں مسافر بے بسی اور خوف کے سائے میں مدد کے منتظر ہیں۔

