وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ (Attaullah Tarar) نے مئی 2026 میں ایک اہم پارلیمانی خطاب کے دوران واضح کیا ہے کہ میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ رپورٹس کے مطابق، وفاقی وزیر نے ان نجی ٹی وی چینلز کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے حال ہی میں اپنے درجنوں ملازمین کو برطرف کیا یا جن کے واجبات ادا نہیں کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کی ملازمت کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اے پی پی (APP) کی رپورٹ کے مطابق، صحافیوں نے برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پارلیمنٹ کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا تھا۔ تاہم، عطا اللہ تارڑ (Attaullah Tarar) کی جانب سے صحافیوں کے وفد سے ملاقات اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد میڈیا نمائندگان نے بائیکاٹ ختم کر کے دوبارہ پارلیمانی کارروائی کی کوریج شروع کر دی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر بتایا کہ برطرف کیے گئے 170 ملازمین کے معاملے پر متعلقہ چینل کی انتظامیہ کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے تاکہ اس بحران کا کوئی منصفانہ حل نکالا جا سکے۔
دنیا نیوز (Dunya News) کی رپورٹ کے مطابق، عطا اللہ تارڑ (Attaullah Tarar) نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں میڈیا ہاؤسز کے مالی مسائل حل کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سونو نیوز" جیسے اداروں نے ملازمین کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی شروع کر دی ہے جس کے بعد ان کے اشتہارات بحال کیے جا رہے ہیں۔ مئی 2026 کی یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ حکومت میڈیا مالکان اور ورکرز کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ (Attaullah Tarar) کی مداخلت سے میڈیا انڈسٹری میں پیدا ہونے والے حالیہ تناؤ میں کمی آئی ہے۔ حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ جونیئر ملازمین کی برطرفی اور تنخواہوں میں کٹوتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ مئی 2026 کے ان اقدامات کو صحافتی تنظیموں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں ایک مستقل اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل پیدا نہ ہوں۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا ہے کہ اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر صحافیوں کے لیے بہتر سروس سٹرکچر اور مراعات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

